How to import items direct from Ali Express in urdu - Basit Striker
Ads Here

Thursday, December 26, 2019

How to import items direct from Ali Express in urdu

کسی نے ایک پوسٹ لگائی تھی کہ چائنہ سے امپورٹ کا کیا طریقہ ہے رہنمائی کریں ۔  اس پر کافی احباب نے دلچسپی کا اظہار بھی کیا ۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ سوال پوچھنے والے اور اظہار دلچسپی والے بھی نہیں جانتے کہ وہ کیا جاننا چاہتے ہیں ۔ پھر بھی کچھ باتیں عرض کرتا ہوں ۔

ذاتی استعمال کے لیے شے منگوانا

-----------------------------------

علی ایکسپریس سے صارف کی حیثیت ایک دو آئٹمز آن لائن منگوانی ہوں تو اس کے لیے تو آپ کو صرف ایک کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کی ضرورت ہے ۔  آرڈر پلیس کریں ۔ پیمنٹ دیں اور منگوا لیں ۔ لیکن چونکہ کریڈٹ کارڈ سب کے پاس نہیں ہوتا تو پرچیزنگ  میں مشکل ہوتی ہے ۔

کچھ آن لائن بزنس والے بہت سمارٹ بزنس کر رہے ہیں ۔ انہوں نے علی ایکسپریس کی پراڈکٹس اپنے ویب پیجز یا آن لائن سٹورز پر لگا رکھی ہیں ۔ ڈلیوری ٹائم علی ایکسپریس سے زیادہ رکھ لیتے ہیں ۔ پاکستان سے آرڈر وصول کیا اور علی ایکسپریس سےمنگوا کر دے  دی ۔

علی ایکسپریس سے منگوانے  والی آئٹمز میں سے کچھ کی ڈلیوری تو فری ہوتی ہے اور کچھ کا خرچہ دینا ہوتا ہے ۔ یہ سپلائیر کی مرضی ہے ۔ لیکن پراڈکٹ کی تفصیل کے ساتھ یہ لکھا ہوتا ہے ۔

لیکن پاکستان کا کسٹم بہرحال آپ ہی کو ادا کرنا ہوگا ۔  کس شے پر کتنا کسٹم ہے اس کا انحصار دو باتوں پر ہوتا ہے

شے کی نوعیت

اس کی قیمت

کمرشل امپورٹ

----------------------

* آپ کی ایک سیلز ٹیکس رجسٹر کمپنی ہونی چاہیے ۔

* آپ کو اپنی پراڈکٹ پر لگنے والے کسٹم ڈیوٹی کا علم ہونا چاہیے ۔ جو زیرو فیصد سے 50 فیصد تک بھی ہو سکتا ہے ۔  سیلز ٹیکس ، ود ہولڈنگ ٹیکس اور دیگر خرچے اس کے علاوہ ہیں

* آپ کے پاس امپورٹ کا WEBOC اکاونٹ ہو۔

* آپ اپنے سپلائیر کو آرڈ دیں گے جس کے دو طریقے ہیں

ایل سی کھلوانا

ایڈوانس پیمنٹ کرنا ۔

شروع میں شاید ہی کوئی سپلائِر ایل سی کے لیے مانیں تو آپ کو ایڈوانس پیمنٹ بھجوانی ہوگی ۔   بلکہ آج کل  I-Form بھرا جاتا ہے ۔ جس کی تفصیل آپ کو امپورٹ پراسس میں آنے پر علم ہو جائے گی ۔

یہاں بھی دو راستے ہیں

 اگر آپ چاہتے ہیں کہ کسٹم کو پراڈکٹ کی اصل قیمت بتا کر پورا ٹیکس دیں تو آپ ساری کی ساری رقم اپنے بنک سے بھجوائیں گے ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ کسٹم والوں کم قیمت بتائیں تو آپ کچھ حصہ اپنے بنک سے بھجوائیں گے اور باقی کسی ہنڈی والے سے بھجوائیں گے ۔ جو غیر قانونی ہے لیکن پاکستان میں 80 فیصد سے زائد لوگ ایسا کرتے ہیں ۔

پرائس کا طریقہ اور ٹرمز

------------------------

* سپلائیر سے پیمنٹ اور آرڈرکے کی درج ذیل شرائط ہوتی ہیں

1۔ وہ فیکٹری میں مال دے گا باقی آپ کا کام ۔ اسے EX-work  کہتے ہیں

2۔ وہ آپ کے گودام تک مال پہنچا دے گا ۔ اسے FCA  کہتے ہیں

3۔ وہ چائنہ کا کسٹم کلئیر کروا کر دے گا ۔ اسے FOB  کہتے ہیں

4۔  وہ پاکستان پورٹ تک کا کرایہ بھی دے گا ۔ اسے C&F  کہتے ہیں

اگر آپ پہلی تین میں سے کوئِ پرائس لیتے ہیں تو آپ کو ایک فارورڈنگ کمپنی کی بھی ضرورت ہوگی ۔  اور اگر چوتھی پرائس لیتے ہیں تو پھر مال آنے کے بعد آپ کو صرف ایک "کسٹم ایجنٹ" کی ضرورت ہوگی ۔  جو آپ کا سامان کسٹم سے ریلیز کرا کے دے گا ۔

بغر رجسٹریشن اور کسٹم کے مال منگوانا

-------------------------------------------

کچھ لوگ جو اتنے جھنجھٹوں میں نہیں پڑنا چاہتے یا شروع میں کم مال منگواتے ہیں اور ان مسائل سے بچنا چاہتے ہیں ان کے لیے کچھ ایسی کمپنیاں بھِی کام کر رہی ہیں جو مختلف لوگوں کے آرڈرز کو اکٹھا کرکے امپورٹ کر لیتی ہیں ۔ اور چھوٹے چھوٹے آرڈرز ڈلیور کر دیتے ہیں  اسے بزنس کو D/D یعنی ڈور ٹو ڈور ڈلیوری کہتے ہیں ۔

آپ اپنے سپلائِر کو ہنڈی یا کریڈٹ کارڈ یا ویسٹرن یونین سے پیسے بھجواتے ہیں ۔ اور اسے ایسی کمپنیوں کے گودام کا ایڈریس دے دیتے ہیں کہ بس سامان ان کو بھجوا دو ۔ یہ کمپنیاں اسے اپنے دوسرے سامان کے ساتھ امپورٹ کرتی ہیں اور آپ کا سامان آپ کو دے دیتی ہیں

عام طور پر ان کے ریٹ کلو کی شکل میں یا فی عدد کے حساب سے ہوتے ہیں ۔

ایک لحاظ سے یہ طریقہ تھوڑا رسکی سمجھا جاتا ہے ۔ بعض کمپنیاں ریٹ کم دے دیتی ہیں لیکن مال آنے میں دو دو تین تین ماہ لگ جاتے ہیں ۔ کیونکہ جب ان کا کینٹر بھرتا ہے ۔ تبھی آتا ہے ۔

بائی سی اور پائی ائیر امپورٹ

------------------------------

بائِ سی امپورٹ سستی پڑتی ہے لیکن سامان آنے میں قریبا 20-30 دن لگتے ہیں ۔ یہ صرف شپ کے آنے کا وقت ہے ۔ باقی وقت اس کے علاوہ

بائی ائیر مین سامان تین چار دن میں آسکتا ہے [ چائنہ اور پاکستان کسٹم پر لگنے والا وقت علیحدہ ] لیکن یہ مہنگا ہوتا ہے ۔

ڈی ایچ ایل ، ای ایم ایس اور کورئیر سروسز

-------------------------------------------

اگر علی ایکسپریس کے علاوہ کسی اور سپلائیر سے چھوٹے پیکجز منگوانے ہوں تو ڈی ایچ ایل سے منگوائے جا سکتے ہیں ۔  ان کا کرایہ زیادہ ہوتا ہے ۔ لیکن کسٹم میں نسبتا سہولت ہوتی ہے ۔

خیال رہے ۔

کسی بھی آٹریکشن میں آکر بغیر مناسب ورکنگ کے امپورٹ نہ کریں ۔ کئی بار ایسا لگتا ہے کہ چائنہ سے تو ایک شے  2 یو آن یعنی صرف 45 روپے کہ مل رہی ہے اور یہاں 150 کی بک رہی ہے تو منگواو ہزار دو ہزارپیسز  ۔ لیکن وہاں سے آنے اور یہاں پر بکنے میں پورا ایک پراسس ہے ۔  پہلے اسے ضرور سمجھیں ۔ یہاں مہیا کردہ معلومات صرف بنیادی معلومات ہیں ۔ مزید تفصیلات کے لیے آپ کو کسی کنسلٹنٹ سے بالمشافہ ملنا چاہیے ۔

No comments:

Post a Comment